28 مئی 2026 - 22:25
ایران کے ساتھ ابھی کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچے  ٹرمپ / ممالک کو ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کا ڈکٹیشن / پاکستان کا دوٹوک جواب

قاتل امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ امریکہ ہنوز ایران کے ساتھ کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے؛ ممکن ہے مسئلہ ختم کرنے کے لئے دوبارہ جنگ میں پلٹ جائیں شاید ایسا نہ بھی کریں!؛ سعودی قطری، اماراتی، پاکستانی اور دوسرے ابراہیم معاہدے سے آ ملیں / پاکستان نے ٹرمپی کال کو مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

طفل خوار قاتل اپیسٹینی امریکی صدر نے نے کہا ہے:

- ایران کے بارے میں ابھی کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچے۔

- شاید ایران فائل بند کرنے کے لئے سابقہ صورت حال (جنگ) کی طرف پلٹ جائیں شاید ایسا نہ بھی کریں!

- ایران سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ، صبر کر سکتا ہے لیکن میں زیادہ عرصے تک صبر کر سکتا ہوں۔ ایرانی سمجھتے ہیں کہ میں مڈٹرم انتخابات کی خاطر جنگ ختم کروں گا، لیکن میں ان انتخابات کو اہمیت نہیں دیتا!

- میں چاہتا ہوں کہ سعودی، اماراتی، قطری، پاکستانی اور دوسرے "ابراہیم معاہدے" سے آ ملیں، وہ ہمارے احسانمند ہیں!

ٹرمپیات کا ایک شعبہ ـ اپنے اوپر آنے والے الزامات کو، اپنی پالیسیوں کا شکار ہونے والے ممالک کو احسان مند قرار دینے اور مورد الزام ٹہرانے ـ سے عبارت ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ حالیہ ایران جنگ میں خلیج فارس کی جنوبی عرب ریاستوں کو اپنی سرزمینیں اور مفادات امریکہ کی خاطر قربان کرنا پڑا اور اپنی 50 یا 60 سالہ ترقی کو نابود کروانا پڑا، لیکن ٹرمپ ابھی ان سے 'مانگ' رہا ہے، جنگ کے بالکل وسط میں اس نے کہا کہ اگر ایران کو تاوان ادا کرنے کی بات سامنے آئی تو ان ہی ریاستوں کو یہ رقوم ادا کرنا پڑیں گی اور اب کہتا ہے  "امریکہ نے تم سے پیسہ لے کر، تمہاری حفاظت کے بہانے، صہیونی ریاست کے مفادات کے لئے، تمہاری سرزمینوں میں، ایران کے خلاف، امریکی فوجی اڈے قائم کئے تھے جو نہ صرف تمہارے کام نہ آئے بلکہ تمہارے اور ماضی اور مستقبل کی تباہ کا باعث بن گئے، لہذا تمہیں واشنگٹن کا ممنون احسان ہونا چاہئے، تم ہمارے ممنون و مرہون و مقروض و مدیون ہو، لہذا اسرائیل کو تسلیم کرو! یعنی امریکہ سمیت پوری دنیا اسرائیل پر قربان۔۔۔ شاید صرف طفل خوری کی ایک ہی ویڈیو کی وجہ سے جو ایپسٹین نے ریکارڈ کرائی تھی، اس کے خفیہ جزیرے میں، اور اب نیتن یاہو کے پاس ہے!!!

پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ معمول سازی کو مسترد کر دیا

ترکیہ، اور عرب ریاستوں میں امارات، اردن، بحرین اور مراکش نے پہلے ہی ناجائز صہیونی ریاست اور قبلۂ اول کے غاصب وجود کو تسلیم کیا ہے اور ٹرمپ ایران جنگ میں شکست کھانے کے باوجود، سلسل اپنی یہ بے شرمانہ کال دہرا رہا ہے کہ کہ سعودی عرب، قطر، کویت، عمان اور پاکستان بھی ابراہیم معاہدے سے جا ملیں اور خونخوار و غاصب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلق قائم کریں، جس پر پاکستان نے رد عمل دکھایا اور اس 'ٹرمپیہ' (ٹرمپ کی کال) کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا، نظریۂ پاکستان کے منافی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha